بنگلورو،2؍مارچ (ایس او نیوز) سی اے اے،این پی آر اور این آر سی کے خلاف پورا ملک آج تاریخی طور پر سیول نافرمانی کی تحریک کا گواہ بن رہا ہے- لوگ گاندھی جی سے ترغیب لے کر تقسیم کاری اور غیر آئینی و غیر جمہوری شہریت تر میمی قانون کے خلاف سڑکوں پرپرامن مظاہرے اور احتجاج کررہے ہیں -دہلی کا شاہین باغ اور بنگلور کا بلال باغ اس کی واضح مثالیں ہیں -دیگر مقامات پر ہوئے تشدد کے پیچھے وہ شرپسند عناصر ہیں جو حق کی آواز دبانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں،جنہیں یہ قطعی پسند نہیں کہ حکومت کی پالیسی کے خلاف کوئی آواز بلند کرے- یہی وہ عناصر ہیں جنہوں نے حکومت کے غیر آئینی فیصلے اور غیر دستور و غیر جمہوری مجوزہ منصوبے کے خلاف آواز بلندکرنے والوں کو غداروطن قراردینے کی کوشش کرتے ہوئے ہندوؤں کے دلوں میں اقلیتوں خصوصاًمسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بودیاہے-اسی کی وجہ سے آج پورے ہندوستان کی فضا زہرآلود بن گئی ہے اور گنگاجمنی تہذیب کے متفقہ طور پرماننے والے آج ایک دوسرے کے خون پیاسے بن گئے ہیں -دہلی کا شمال مشرقی خطہ اس کا گواہ ہے،جہاں 43سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں -مہاتما گاندھی نے کہاتھا کہ اگر ہم کسی برے قانون کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں تو پر امن اور عدم تشدد کے طریقے سے ہمیں اس قانون کو ماننے سے انکار کرنا چاہیے- گاندھی جی کے مطابق بری چیزوں میں عدم تعاون کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اچھی چیزوں میں تعاون کرنا- برے قانون کو منع کرنے کے اسی عمل کوسیول نافرمانی کہا گیا ہے- ملک کے شہریوں خاص طور پر طالب علموں نے جلد ہی پہچان لیا کہ مودی حکومت کا منشا ہے کہ شہریت قانون، این آرسی اور این پی آر نافذ کر کے آئین کے بنیادی جذبہ کا قتل کردیا جائے- اسی وجہ سے ملک بھر میں نوجوانوں، بچوں اور خواتین نے مظاہرہ شروع کیا-ان مظاہروں میں لوگوں نے ایک ہاتھ میں ترنگا اور دوسرے ہاتھ میں پوسٹر تھام رکھے ہیں، جن میں حکومت کی تقسیم کار پالیسی کی مخالفت والے نعرے لکھے گئے ہیں - ریلیوں میں ”ہم کاغذ نہیں دکھائیں“گے کے نعرے لگ رہے ہیں - ان تمام مظاہروں کا مقصد ہے، ملک کے بھائی چارہ کو بچائے رکھناہے - لوگ اس لئے سامنے آئے ہیں کہ ان کے بھائی بہنوں کے ساتھ زیادتی نہ کی جا سکے- اس سیول نافرمانی میں صرف مسلمان ہی نہیں ہیں، بلکہ ہندوؤں نے بھی اس کا پورا پورا ساتھ دیا ہے- اس سنہرے پل کو ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا- ان سب کے باوجود ملک کو تقسیم کرنے کی پالیسی پر چل رہی اس حکومت کو جھکانے کے لئے صرف عوام کی مخالفت اور مظاہرہ ہی کافی نہیں ہے- حال ہی میں دیکھاگیا کہ کیسے اتر پردیش کی حکومت نے طالب علموں اور اپنے شہریوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے- کیسے دہلی کے شاہین باغ کی تحریک کو کمزو رکرنے کیلئے جعفرآباد ودیگر علاقوں میں غنڈہ گردوں کو چھوٹ دے کر3/دن تک فساد برپا کروایا گیا- حکومت کی اس منشا کو ناکام کرنے کیلئے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھی اس تحریک سے جڑنا ہو گا- تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے-
بشکر یہ : (روز نامہ سالار ، ہبلی ؍ بتاریخ : 2؍ مارچ 2020)